اسلام آباد() تمباکو ایکشن کمیٹی خیبر پختونخوا کے چیئرمین محمد ارشاد خان نےحکومت کی جانب سےتمباکو پر ٹیکسزکے نفاذ کو مسترد اوراسے واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کوخبردار کیا ہے کہ حکومت کی طرف سےتمباکو پر ٹیکسزمیں مسلسل اضافے سے اس صنعت سے وابستہ لاکھوں کاشت کار، مزدور اور مقامی صنعت شدید بحران کا شکار ہیں ،حکومت کی موجودہ پالیسیوںسے اس شعبے کو نا قابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے،حکومت نے ٹیکسز میں کمی اور کاشتکارون کو ریلیف فراہم نہ کیا تو شدید احتجاج کیا جائے گا،نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں تنظیم کے جنرل سیکرٹری نواب علی،محمد شاہد خان، اقبال خان و دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے محمد ارشاد خان کا مزید کہنا تھا کہ ایف بی آر کی طرف سے ایکسپورٹ پر بھی ٹیکسز لگائے گئے ہیں جبکہ دنیا میں کہیں بھی ایکسپورٹ پر ٹیکسز نہیں لگائے جاتے کیونکہ جتنا ایکسپورٹ زیادہ ہوتا ہے اتنا زیادہ زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے، لہذاٰ ایکسپورٹ پرٹیکس کا مکمل خاتمہ کیا جائےکیونکہ اس سے نہ صرف کاشتکار بلکہ پوری سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے،ایف بی آر کے پہلے تین سلیب بنائے گئے تھے جن میں سے دوہائی اور درمیانہ ریٹ کے ملٹی نیشنل کمپنیوں کیلئے جبکہ تیسرا سمال انڈسٹری کیلئے تھا جسے ختم کرکے دو سلیب بنا دیئے گئے،ارشاد کان نے تیسرا سلیب بحال کرنے کا مطالبہ کیاتاکہ سمال انڈسٹری کو مسائل سے نکالا جا سکے،خیبر پختونخواکی اکثریت اس کاروبار سے وابستہ ہے،مقررین نے مزید کہا کہ ایف بی ار والوں نے بدمعاشیاں شروع کی ہوئی ہیں اور کاشتکاروں کا جینا حرام کر رکھا ہے،تمباکوکے کاشتکاروں کاذریعہ معاش اسی فصل سے جڑا ہوا ہےاورانکی غمی خوشی اور شادیاں اسی فصل کے مرہون منت ہیں،انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ تمباکو کے کاشتکاروں کے تحفظات دور کرے اور انہیں ریلیف فراہم کرے بصورت دیگر صوبے بھر کے تمباکو کاشتکار شدید احتجاج اور دھرنا دینے پر مجبور ہونگے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حقوق کے حصول کیلئے ہرممکن جدوجہد جاری رکھی جائیگیاور کسی بھی دباؤ کو خاطر میں نہیں لایا جائیگا۔








