اسلام آباد: نیشنل پریس کلب اسلام آباد کی منتخب باڈی نے سینئر صحافی، اینکر منیزے جہانگیر کو اچانک آف ایئر کیے جانے پر گہری تشویش کااظہار کیا ہے۔ صدر عبدالرزاق سیال، سیکرٹری ڈاکٹر فرقان راؤ، فنانس سیکرٹری عابد عباسی اور گورننگ باڈی کے تمام اراکین نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ میڈیا اداروں میں شفافیت کی کمی، اظہارِ رائے پر قدغن، ملازمتوں کا عدم تحفظ اور لیبر قوانین کی مسلسل خلاف ورزی ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے، جس سے صحافت کی آزادی اور صحافیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں،گورننگ باڈی نے آج ٹی وی کے ملازمین کو گزشتہ بھی تقریبا” تین ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر بھی شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تین ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے باعث صحافی اور دیگر میڈیا ورکرز شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں، جو نہ صرف لیبر قوانین بلکہ بنیادی انسانی اور پیشہ ورانہ حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آج ٹی وی کو سرکاری یا دیگر ذرائع سے ملنے والے اشتہارات اور آمدن میں ملازمین کی بروقت تنخواہوں کی ادائیگی کو اولین ترجیح دی جائے تاکہ ملازمین کے معاشی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔سیکرٹری پریس کلب ڈاکٹر فرقان راؤ نے کہا کہ اگر کسی ادارے کو اپنے ملازم سے متعلق کوئی فیصلہ کرنا بھی ہو تو وہ پاکستان کے لیبر قوانین اور قانونی تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ کسی بھی صحافی کو اچانک آف ایئر کرنا یا ملازمت سے محروم کرنا پیشہ ورانہ اصولوں کے منافی ہے۔نیشنل پریس کلب نے وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لیں، آج ٹی وی سمیت تمام میڈیا اداروں میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو درپیش تنخواہوں کی عدم ادائیگی، ملازمت کے عدم تحفظ اور دیگر پیشہ ورانہ مسائل کے حل کے لیے مؤثر کردار ادا کریں، میڈیا مالکان کو لیبر قوانین پر عمل درآمد کا پابند بنائیں، اور ایسے اقدامات کی حوصلہ شکنی کریں جن کے نتیجے میں صحافیوں کو بلاجواز ملازمت سے محروم یا ان کے معاشی حقوق سے محروم کیا جاتا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ آزاد، خودمختار اور محفوظ صحافت جمہوری معاشرے کی بنیاد ہے اور صحافیوں کے روزگار، وقار اور آئینی حقوق کا تحفظ ریاست، میڈیا مالکان اور متعلقہ اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ نیشنل پریس کلب نے مطالبہ کیا کہ منیزے جہانگیر کو آف ایئر کیے جانے کے فیصلے پر نظرِثانی کی جائے، اور ملک بھر کے میڈیا ورکرز کو درپیش معاشی، پیشہ ورانہ اور قانونی مسائل کے حل کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔








