اسلام آباد (سٹی رپورٹر)پاکستان نظریاتی پارٹی کے چیئرمین شہیر حیدر سیالوی نےکہا ہے کہ ملک کو درپیش سیاسی، معاشی اور انتظامی بحرانوں کا حل قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے مؤثر اور عملی اقدامات میں مضمر ہے ،عوام مہنگائی، بے روزگاری، بجلی و گیس کے بھاری بلوں اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی سے شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکمرانوں کو عوام کے مسائل کے حل کے لیے محض اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرنا ہوں گے، نوجوان ملک کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں، انہیں روزگار، معیاری تعلیم اور آگے بڑھنے کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں،پاکستان نظریاتی پارٹی عوام کے بنیادی حقوق، آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمران انتخابات سے قبل عوام سے کیے گئے وعدوں کا حساب دیں، پٹرول، بجلی، ڈالر، معیشت اور عوامی ریلیف کے حوالے سے کیے گئے دعوے پورے نہیں ہوئے۔ حکمرانوں نے عوام کو سہولیات دینے کے وعدے کیے تھے لیکن آج مہنگائی اور معاشی مشکلات نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ انتخابات سے قبل عوام کو بتایا گیا تھا کہ پٹرول کی قیمت کم کرکے 70 روپے فی لیٹر کی جائے گی، لیکن آج پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کہاں پہنچ چکی ہیں۔ اسی طرح بجلی سستی کرنے، ڈالر کو 100 روپے تک لانے اور جی ڈی پی کی شرح نمو 6 سے 12 فیصد تک پہنچانے کے دعوے کیے گئے تھے، مگر زمینی حقائق ان دعوؤں کے برعکس ہیں،پاکستان کی سیاست میں اصول، نظریہ اور عوامی خدمت کو مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہیے، ذاتی مفادات اور اقتدار کی سیاست نے ملک کو نقصان پہنچایا ہے۔ شہیر حیدر سیالوی نے کہا کہ حکمرانوں نے آئی ایم ایف کو ملک سے نکالنے کے دعوے کیے تھے، لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ حکومت بار بار آئی ایم ایف کے پاس جا کر قرضوں کے لیے مذاکرات کرتی ہے، عوام پر ٹیکسوں اور بجلی کے بلوں کا مسلسل بوجھ ڈالا جا رہا ہے جبکہ حکمران طبقہ مراعات اور شاہانہ اخراجات سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں، ملک میں مہنگی بجلی اور توانائی کے بحران نے صنعت، کاروبار اور عام شہری سب کو متاثر کیا ہے۔پاکستان نظریاتی پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ انتظامی یونٹس کی ازسرنو تشکیل وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بڑے صوبوں کو انتظامی بنیادوں پر تقسیم کرکے نئے صوبے اور انتظامی یونٹس بنائے جائیں تاکہ عوام کو ان کی دہلیز پر تعلیم، صحت، روزگار، انصاف اور دیگر بنیادی سہولیات میسر آسکیں، انتظامی یونٹس کی بات کو ملک توڑنے سے جوڑنا درست نہیں، پاکستان کی مضبوطی مؤثر اور بااختیار انتظامی نظام میں ہے، پاکستان میں خاندانوں، جاگیرداروں اور مخصوص سیاسی گروہوں کی کئی دہائیوں سے جاری اجارہ داری اب ختم ہونی چاہیے۔ عوام کو جذباتی نعروں کے ذریعے مزید گمراہ نہیں کیا جاسکتا۔ وقت آگیا ہے کہ ملک میں میرٹ، شفافیت، احتساب اور حقیقی عوامی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے۔پاکستان نظریاتی پارٹی کے چیئرمین نے واضح کیا کہ قوم اب مؤثر انتظامی اصلاحات اور نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ کر رہی ہے اور ان کی جماعت اس مطالبے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔پاکستان نظریاتی پارٹی ملک کے نوجوانوں کو متحد کرکے ایک مضبوط، خودمختار اور خوشحال پاکستان کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرے گی۔شہیر حیدر سیالوی نے مزید کہا کہ قومی مسائل پر تمام سیاسی قوتوں کو ذاتی اختلافات سے بالاتر ہوکر ملک کے وسیع تر مفاد میں متحد ہونا ہوگا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے، مہنگائی میں کمی لائی جائے اور اداروں میں شفافیت و میرٹ کو یقینی بنایا جائے۔سندھ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نےکہا کہ کراچی سمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں عوام کو امن و امان، صحت اور بنیادی سہولیات کے حوالے سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی شہری کو علاج کے لیے سرکاری ہسپتال میں جانا پڑے تو اسے مختلف مدوں میں اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ حکومت کو عوام کو بنیادی سہولیات مفت اور باعزت طریقے سے فراہم کرنی چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کسی سیاسی جماعت کا ذاتی یا انتخابی پروگرام نہیں بلکہ ریاستی وسائل سے چلنے والا عوامی فلاحی منصوبہ ہے۔ غریب خواتین اور مستحق خاندانوں کو یہ احساس دلانا کہ انہیں کسی سیاسی جماعت کے ذاتی احسان کے طور پر رقم دی جا رہی ہے، قابل مذمت ہے۔ مستحقین کو سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر ان کا حق دیا جانا چاہیے،شہیر حیدر سیالوی نے چیئرمین پاکستان نظریاتی پارٹی نے پنجاب میں حکمرانی اور سرکاری وسائل کے استعمال پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں کی ترجیحات عوامی مسائل کے بجائے شاہانہ اخراجات بن چکی ہیں۔ ایک طرف مزدور اور عام شہری مہنگائی سے پریشان ہیں جبکہ دوسری طرف حکمرانوں کے دوروں اور مراعات پر کروڑوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی رقم عوام ہی کی فلاح پر خرچ ہونی چاہیے۔شہیر حیدر سیالوی نے کہا کہ جنوبی پنجاب، بلوچستان، خیبرپختونخوا، سندھ اور ملک کے دیگر پسماندہ علاقوں کے عوام کو اپنے مسائل کے حل کے لیے دور دراز دارالحکومتوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔ انہوں نے تعلیمی نظام کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صرف راولپنڈی ڈویژن کے متعدد سرکاری سکولوں میں نویں جماعت کے امتحانات میں کوئی طالب علم کامیاب نہیں ہوسکا۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب حکمرانوں، وزراء اور افسران کے بچے سرکاری سکولوں اور ہسپتالوں سے استفادہ نہیں کرتے تو انہیں سرکاری شعبے کی زبوں حالی کا احساس کیسے ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ ملک کے سرکاری ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کی حالت بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ حکمران اور اشرافیہ بھی انہی اداروں سے استفادہ کریں۔ اگر سرکاری سکول اور ہسپتال معیاری ہوں گے تو معاشرے کے ہر طبقے کو یکساں سہولیات میسر آئیں گی۔پریس کانفرنس میں پاکستان نظریاتی پارٹی کے دیگر رہنما بھی موجود تھے جنہوں نے پارٹی کے آئندہ لائحہ عمل اور ملکی سیاسی صورتحال کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔







