شواہد کی غیر جانبدارانہ تحقیقات سے واقعے کے اصل حقائق سامنے آسکتے ہیں
اسلام آباد (سٹی رپورٹر) مرتضیٰ کھوسو نےکہا ہے کہ شادی سے انکار پر ڈاکٹر سحر آفتاب نائچ کی جانب سے ان پر تشدد آنکھیں نکالنے اور زبان کاٹنے پر انصاف فراہم کیا جائے، واقعے سے متعلق سی سی ٹی وی ریکارڈنگ اہم ثبوت تھی، تاہم اسے مناسب طریقے سے محفوظ اور فرانزک تجزیے کے لیے متعلقہ اداروں کو نہیں بھیجا گیا، انصاف کے حصول کے لیے مختلف متعلقہ حکام اور اداروں سے رجوع کیا، جن میں وفاقی و صوبائی حکام، پولیس، ایف آئی اے، انسانی حقوق سے متعلق ادارے اور دیگر متعلقہ فورمز شامل ہیں، تاہم انہیں تاحال کوئی تسلی بخش انصاف نہیں مل سکا، مرتضیٰ کھوسو نےنیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے کیس میں اہم شواہد کو ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر تکنیکی شواہد کو محفوظ رکھنے اور فرانزک تحقیقات کے لیے متعلقہ اداروں کو بھجوانے میں غفلت برتی گئی جبکہ انہیں مبینہ طور پر اغوا کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔مرتضیٰ کھوسو نے کہا کہ ان کے کیس کا چالان تیار کیا گیا لیکن اہم دستاویزات اور شواہد اس کا حصہ نہیں بنائے گئے۔ ان کے مطابق ان کے پاس مختلف مقامات کی لوکیشنز، ریکارڈنگز اور دیگر شواہد موجود ہیں، جن سے مبینہ طور پر یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ انہیں کہاں سے اٹھایا گیا، کہاں لے جایا گیا اور بعد ازاں کہاں چھوڑا گیا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ واقعے سے متعلق سی سی ٹی وی ریکارڈنگ اہم ثبوت تھی، تاہم اسے مناسب طریقے سے محفوظ اور فرانزک تجزیے کے لیے متعلقہ اداروں کو نہیں بھیجا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کے پاس موجود شواہد کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں تو واقعے کے اصل حقائق سامنے آسکتے ہیں۔مرتضیٰ کھوسو نے کہا کہ انہوں نے انصاف کے حصول کے لیے مختلف متعلقہ حکام اور اداروں سے رجوع کیا، جن میں وفاقی و صوبائی حکام، پولیس، ایف آئی اے، انسانی حقوق سے متعلق ادارے اور دیگر متعلقہ فورمز شامل ہیں، تاہم انہیں تاحال کوئی تسلی بخش انصاف نہیں مل سکا۔انہوں نے چیف آف پاکستان، چیف آف آرمی اسٹاف، ڈی جی آئی ایس پی آر، وزیراعلیٰ سندھ، چیف جسٹس اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ ان کے معاملے کا نوٹس لیا جائے اور ان کے خلاف یا ان کے حق میں موجود تمام شواہد کی بنیاد پر شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔مرتضیٰ کھوسو نے مطالبہ کیا کہ معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک غیر جانب دار جوڈیشل کمیشن یا اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جائے، جس میں متعلقہ ماہرین اور قابل اعتماد افراد شامل ہوں، تاکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے اور ذمہ داروں کا تعین ہو۔انہوں نے کہا کہ اگر تحقیقات میں وہ خود کسی جرم کے مرتکب ثابت ہوں تو ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، لیکن اگر ان کے الزامات درست ثابت ہوں تو انہیں بھی انصاف فراہم کیا جائے۔مرتضیٰ کھوسو نے انسانی حقوق کی عالمی اور ملکی تنظیموں سے بھی اپیل کی کہ وہ ان کے معاملے کا نوٹس لیں اور ان کی آنکھوں کے علاج سمیت بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ میں مدد فراہم کریں۔انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ وہ انصاف کے حصول کے لیے ہر ممکن فورم پر جا چکے ہیں اور اب ان کی اپیل صرف یہ ہے کہ ان کے ساتھ ہونے والے مبینہ واقعے کی شفاف تحقیقات کرکے انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی سیاسی جماعت یا حکومت سے ذاتی مفاد نہیں بلکہ اپنے لیے انصاف اور اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کا جواب چاہتے ہیں۔








