اسلام آباد(سٹی رپورٹر)نیشنل پریس کلب اسلام آباد اور نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (NAVTTC) کے باہمی تعاون سےنیشنل پریس کلب کو انسٹیٹیوٹ کا درجہ دینے کے لیئے کوالیفیکیشن ڈویلپمنٹ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں پانچ کورسز ڈیجیٹل میڈیا، سٹوری ٹیلنگ، کیمرا مین، کنٹینٹ کری ایشن اور جرنلزم وی اے آئی کورسز کے سلیبس کو حتمی شکل دی گئی۔اس حوالے سے اختتامی تقریب نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں منعقد ہوئی جس کی مہمان خصوصی رکن قومی اسمبلی و وزیراعظم یوتھ پروگرام کی فوکل پرسن سیدہ آمنہ بتول تھیں۔اختتامی تقریب میں صدر نیشنل پریس کلب عبدالرزاق سیال، سیکرٹری ڈاکٹر فرقان راؤ، ڈائریکٹر جنرل NAVTTC ڈاکٹر محمد اسحاق، انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (ILO) کے سینئر پروگرام آفیسر سید صغیر بخاری سمیت تربیتی پروگرام میں شریک صحافیوں، ماہرین، ٹرینرز اور دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی رکن قومی اسمبلی سیدہ آمنہ بتول نے کہا کہ موجودہ دور میں صحافت کا شعبہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل میڈیا، مصنوعی ذہانت، تحقیق، فیکٹ چیکنگ اور ڈیجیٹل صحافت سمیت دیگر شعبوں میں مہارت حاصل کرنا صحافیوں کیلئے ناگزیر ہوچکا ہے۔انہوں نے نیشنل پریس کلب اور NAVTTC کے اس مشترکہ اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کی جدید تقاضوں کے مطابق تربیت وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ایسے تربیتی پروگرام صحافیوں کو بدلتے ہوئے میڈیا منظرنامے، جدید ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ضروری علمی اور عملی صلاحیتیں فراہم کرتے ہیں۔سیدہ آمنہ بتول نے کہا کہ صحافی ہماری آواز کو دنیا بھر میں پہنچاتے ہیں اور رائے عامہ کو ہموار کرنے میں انکا بڑا اہم کردار ہے،ملک میں صحافت کے شعبے کی بہتری کیلئے صحافیوں کی تربیت اور استعدادِ کار میں اضافہ انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں اور پیشہ ور افراد کو جدید ہنر اور تربیت کی فراہمی کیلئے مختلف اقدامات کررہی ہے اور صحافیوں کی پیشہ ورانہ تربیت بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔انہوں نے نیشنل پریس کلب اور NAVTTC کے اشتراک سے منعقدہ پروگرام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تربیت فراہم کرنے سے میڈیا کے معیار میں مزید بہتری آئے گی اور صحافی جدید ٹیکنالوجی اور ذرائع ابلاغ کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرسکیں گے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر نیشنل پریس کلب عبدالرزاق سیال نے کہا کہ نیشنل پریس کلب صحافیوں کی فلاح و بہبود کے ساتھ ساتھ ان کی پیشہ ورانہ اور تکنیکی استعداد بڑھانے کیلئے بھی عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے، صحافیوں کی پیشہ ورانہ استعداد میں اضافہ نہ صرف ان کی انفرادی صلاحیتوں کو بہتر بناتا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں عوام کو معیاری، ذمہ دارانہ اور مستند معلومات کی فراہمی بھی یقینی بنائی جاسکتی ہے،صحافیوں کی مسلسل تربیت وقت کی ضرورت ہے اور مستقبل میں بھی ایسے پروگرامز کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔سیکرٹری نیشنل پریس کلب ڈاکٹر فرقان راؤ نے کہا کہ اب نیشنل پریس کلب بحیثیت ادارہ کام کریگا، ہماری کوشش ہے کہ ایک سو کے قریب اپنے صحافی ممبران کو ٹریننگ دیں، تین تین مہینے کا کورس ہوگا،آج آے آئی کا دور ہے جس کیلئے ہمیں آپنے صحافی دوستوں کی مالی حالات کی بہتری پر کام کرنا ہے،اس طرح کی تربیت حاصل کرنے کے بعد صحافی اپنے مالی حالات میں بہتری لا سکتے ہیں،ہم نے اپنے منشور میں جو وعدے کئے تھے ان پر کام جاری ہے، پہلی بار بائیو میٹرک ہو رہی ہے، پر یس کلب کی ویب سائٹ بنا دی گئی ہے،ڈیجیٹل لیب بنائینگے، وزیراطلاعات جلدی اپنے وعدےپر عملدرآمد کریں،صحافیونں کی ایک ماہ کی پہلے بھی ٹریننگ کروائی ہے اور مستقبل میں بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا،اگر مستقبل میں ہمیں دوبارہ موقع ملا تو پریس کلب کو ایک پروفیشنل ادارہ بنائینگے، جو قومی اور بین الاقوامی سطح پر مستند ہوگا،تقریب کے اختتام پر مہمان خصوصی سیدہ آمنہ بتول نے پانچ روزہ پروگرام میں کامیابی سے شرکت کرنے والے صحافیوں میں سرٹیفیکیٹس تقسیم کئے۔ شرکاء نے پروگرام کو صحافتی صلاحیتوں میں اضافے اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کیلئے مفید قرار دیتے ہوئے نیشنل پریس کلب اور NAVTTC کی اس کاوش کو سراہا۔اختتامی تقریب کے موقع پر پروگرام کے منتظمین، ماہرین، ٹرینرز اور شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صحافیوں کی پیشہ ورانہ تربیت اور استعداد کار میں اضافے کیلئے مستقبل میں بھی ایسے پروگراموں کا انعقاد جاری رکھا جائے گا۔
















