کوئٹہ میں زیرِ زمین پانی 1400 فٹ تک نیچے چلا گیا، چیئرمین واٹر کنونشن کمیشن سپریم کورٹ آف
اسلام آباد (سٹی رپورٹر) واٹر کنونشن کمیشن سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر محمد احسن صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستان میں پانی کے مسائل انتہائی سنگین صورتحال اختیار کر چکے ہیں، کوئٹہ میں زیرِ زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک نیچے جا چکی ہے جبکہ منچھر جھیل آلودگی اور ناقص آبی انتظام کے باعث تباہی کے دہانے پر ہے۔ حکومت کو پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے فوری اور عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر محمد احسن صدیقی نے کہا کہ وہ گزشتہ تقریباً 40 برس سے پانی کے شعبے میں کام کر رہے ہیں، دنیا کی مختلف جامعات میں تدریسی خدمات انجام دے چکے ہیں اور پانی کے مسائل پر پاکستان سمیت دنیا بھر میں متعدد کانفرنسز اور لیکچرز میں شرکت کرچکے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ تقریباً 25 سال قبل بلوچستان کے دورے کے دوران انہوں نے کوئٹہ میں زیرِ زمین پانی کی صورتحال کا سائنسی بنیادوں پر جائزہ لیا تھا۔ جیولوجیکل اور فزیکل کنڈیشنز سمیت ریزسٹیویٹی سروے کے ذریعے اس وقت ہی پیش گوئی کردی تھی کہ اگر پانی کے استعمال اور انتظام کے موجودہ طریقہ کار کو تبدیل نہ کیا گیا تو آئندہ 25 برس میں کوئٹہ میں پانی انتہائی کم یا ختم ہونے کے قریب پہنچ جائے گا۔ڈاکٹر محمد احسن صدیقی نے کہا کہ بدقسمتی سے ان خدشات پر بروقت توجہ نہیں دی گئی اور آج کوئٹہ میں زیرِ زمین پانی کی سطح تقریباً 1400 فٹ تک نیچے جانے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی پیش گوئی درست ثابت ہو، لیکن ایک ٹیکنوکریٹ کی حیثیت سے عوام اور متعلقہ اداروں کو حقائق سے آگاہ کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کوئٹہ کے ایک سیب کے کاشتکار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک شخص نے پانی کی شدید کمی کے باعث اپنے 10 ایکڑ پر مشتمل سیب کے باغات ختم کردیئے، کیونکہ اسے خدشہ تھا کہ اگر وہ باغات برقرار رکھتا ہے تو آنے والی نسلوں کے لیے پانی دستیاب نہیں ہوگا۔ ڈاکٹر صدیقی کے مطابق یہ صورتحال بلوچستان میں پانی کے بحران کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ میں پانی کے مسئلے پر اعلیٰ سطحی اجلاس بھی منعقد ہوا جس میں چیف سیکرٹری، مختلف محکموں کے ڈائریکٹر جنرلز، محکمہ ماحولیات کے حکام اور ایڈووکیٹ جنرل سمیت متعلقہ حکام شریک ہوئے، جہاں پانی کے بحران اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی غور کیا گیا۔منچھر جھیل کے حوالے سے ڈاکٹر محمد احسن صدیقی نے کہا کہ سندھ کی منچھر جھیل ایشیا کی بڑی جھیلوں میں شمار ہوتی ہے، تاہم بلوچستان کے پہاڑی علاقوں سے آنے والے پانی، سیلابی بہاؤ اور دیگر آبی ذرائع کو مختلف منصوبوں کے ذریعے منچھر جھیل میں منتقل کرنے سے جھیل کے ماحولیاتی نظام پر شدید اثرات مرتب ہوئے۔انہوں نے کہا کہ 2004 میں حیدرآباد کے علاقے میں آلودہ پانی کے باعث ایک بڑا انسانی المیہ سامنے آیا، جس میں ان کے مطابق 42 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ دریائے سندھ کے دونوں جانب تقریباً 110 کلومیٹر کے علاقے میں رہنے والی آبادی متاثر ہوئی۔ڈاکٹر صدیقی نے بتایا کہ منچھر جھیل کے پانی کے سائنسی تجزیے کے دوران خطرناک مقدار میں مرکری سمیت دیگر آلودہ اجزا کی موجودگی کا انکشاف ہوا۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں طبی کیمپ قائم کیے گئے اور مقامی افراد کے خون، ناخن اور بالوں کے نمونے لے کر تحقیقات کی گئیں۔ ان کے مطابق آلودہ پانی اور ماحولیاتی آلودگی نے بالخصوص بچوں کی صحت اور بینائی کو بھی متاثر کیا۔انہوں نے کہا کہ منچھر جھیل کو بچانے کے لیے آبی منصوبوں کی بروقت تکمیل انتہائی ضروری ہے۔ ان کے مطابق RBOD-II کے ذریعے آلودہ پانی کو منچھر جھیل سے نکال کر سمندر تک پہنچانے کا منصوبہ طویل عرصے سے زیرِ تکمیل ہے، جس کی تکمیل میں تاخیر سے جھیل اور اس سے وابستہ لاکھوں افراد کو مسلسل مشکلات کا سامنا ہے۔ڈاکٹر محمد احسن صدیقی نے مطالبہ کیا کہ RBOD-II کو فوری طور پر مکمل کیا جائے تاکہ آلودہ پانی کو منچھر جھیل میں جانے سے روکا اور اسے سمندر تک منتقل کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس منصوبے کو مزید تاخیر کا شکار کیا گیا تو منچھر جھیل کا ماحولیاتی نظام مزید تباہ ہوگا اور مقامی آبادی کے مسائل میں اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ منچھر جھیل کبھی مقامی آبادی کے لیے خوشحالی کا ذریعہ تھی، جہاں مچھلی، سبزیاں اور دیگر زرعی پیداوار وافر مقدار میں ہوتی تھی، لیکن آبی آلودگی کے باعث وہاں کے لوگوں کا معاشی اور معاشرتی نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔پروفیسر ڈاکٹر محمد احسن صدیقی نے کہا کہ پانی صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ انسانی زندگی، معیشت، زراعت اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔ پاکستان کو پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے سائنسی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی، مؤثر آبی انتظام اور طویل المدتی منصوبہ بندی کو ترجیح دینا ہوگی۔








