اسلام آباد: نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے صدر عبدالرزاق سیال، سیکرٹری ڈاکٹر فرقان راؤ نے وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت (FOSPAH) کی جانب سےسینئر رکن نیشنل پریس کلب ،اے پی پی کی رپورٹر/سب ایڈیٹر صنم جونیجو کی جانب سے رشید ملک (قائم مقام ڈائریکٹر، اے پی پی) کے خلاف دائر ہراسگی کی شکایت پر سنائے گئے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خواتین کے تحفظ، انصاف کی فراہمی اور قانون کی بالادستی کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت نے خاتون صحافی کے خلاف تضحیک آمیزالفاظ اورہراسگی ثابت ہونے پرقائم مقام ڈائریکٹر، اے پی پی پر پانچ لاکھ روپے جرمانہ عائد کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ نیشنل پریس کلب کے عہدیداروں نے کہا کہ کام کی جگہ پر ہراسگی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور امتیازی رویے کوکسی بھی صورت کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین صحافیوں کو محفوظ، باوقار اور مساوی پیشہ ورانہ ماحول کی فراہمی تمام سرکاری و نجی میڈیا اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔صدر نیشنل پریس کلب عبدالرزاق سیال، سیکرٹری ڈاکٹر فرقان راؤ نے عدالت کے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات اور سیکرٹری اطلاعات سے مطالبہ کیا کہ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) میں خواتین صحافیوں اور خواتین ملازمین کے تحفظ کو مزید مؤثر بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، انسدادِ ہراسگی کے قوانین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے، اور منیجمنٹ کو ہدایت کی جائے کہ مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام کے لیے مضبوط انتظامی اور ادارہ جاتی نظام وضع کیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری و نجی تمام میڈیا اداروں کو چاہیے کہ وہ اپنی انسدادِ ہراسگی پالیسیوں کو مؤثر بنائیں، شکایات کے بروقت، شفاف اور غیرجانبدارانہ ازالے کو یقینی بنائیں، تاکہ صحافی، بالخصوص خواتین صحافی، بلا خوف و خطر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔نیشنل پریس کلب نے صنم جونیجو سمیت ان تمام صحافیوں سے اظہارِ یکجہتی کیا جو قانونی اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے انصاف کے حصول کے لیے جدوجہد کرتے ہیں، اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ کلب ملک بھر کے صحافیوں، خصوصاً خواتین صحافیوںکے وقار، تحفظ اور پیشہ ورانہ حقوق کے فروغ کے لیے اپنا مؤثر کردار جاری رکھے گا۔








