اسلام آباد: نیشنل پریس کلب اسلام آباد کی گورننگ باڈی کا اجلاس صدر عبدالرزاق سیال کی زیر صدارت منعقد ہوا ، سیکرٹری نیشنل پریس کلب ڈاکٹر فرقان راؤ نے نظامت کے فرائض سرانجام دئیے۔اجلاس میں فنانس سیکرٹری عابد عباسی نے فنانس رپورٹ پیش کی اجلاس کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔اجلاس میں گورننگ باڈی کے اراکین نے 10سال گزرنے کے باوجود ہائوسنگ کوٹہ نہ ملنے پر تشویش کا اظہار کیا۔ صحافیوں کے ہاؤسنگ مسائل، ہاؤسنگ سکیموں میں مختص کوٹہ، زیر التواء پلاٹوں کی الاٹمنٹ،میڈیا ٹاؤن فیز ٹو، پریس کلب کی نئی عمارت کی تعمیر، آئی ٹی این ای کے چیئرمین اورپیمرا کونسل آف کمپلینٹ کے ممبران کی تعیناتی ، صحافیوں کی فلاح و بہبود، ریلوے رعایت، میڈیا اداروں کے ملازمین کے مسائل اور کلب کے آئینی و تنظیمی امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔گورننگ باڈی نے اس بات پر زور دیا کہ ہاؤسنگ سکیموں میں درخواست دینے والے صحافیوں کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ماضی میں جمع کروائی گئی درخواستوں اور زیر التواء الاٹمنٹس کا شفاف اور میرٹ پر مبنی جائزہ لیا جائے تاکہ کسی مستحق صحافی کا حق متاثر نہ ہو۔اجلاس کے شرکاء نےمتفقہ طور پر فیصلہ کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ ،سیکرٹری اطلاعات اشفاق خلیل سے مطالبہ کیا کہ زیر التواء پلاٹوں کی الاٹمنٹ اور تصدیقی عمل کو دو ماہ کے اندر مکمل کر کے الاٹمنٹ لیٹر جاری کیئے جائیں۔تاکہ صحافی برادری میں پائی جانے والی بے چینی اور غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔گورننگ باڈی نے مطالبہ کیا کہ صحافیوں کا 2 فیصد کوٹہ فوری طور پر بحال کیا جائے۔گورننگ باڈی نے وزیر اطلاعات اور سیکرٹری اطلاعات سے فوری مطالبہ کیا کہ اے پی پی کاجرنلسٹ ہائوسنگ کوٹہ فوری بحال کیا جائےاور اس حوالے سے عملی اقدامات جلد سے جلد کیئے جائیں گورننگ باڈی نے فیصلہ کیا کہ وفاقی وزیر اطلاعات، سیکرٹری اطلاعات، وفاقی وزیر ہاؤسنگ، سیکرٹری ہاؤسنگ، وزیراعلیٰ پنجاب، وزیر ہاؤسنگ پنجاب اور دیگر متعلقہ حکام سے ملاقاتیں کی جائیں گی تاکہ صحافیوں کے ہاؤسنگ حقوق اور دیگر دیرینہ مطالبات کو مؤثر انداز میں پیش کیا جا سکے۔اجلاس میں میڈیا ٹاؤن کے دوسرے مرحلے (فیزII) کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ روات، ٹھلیاں اور مری ایکسپریس وے کے اطراف میں سرکاری اراضی کی دستیابی کے امکانات موجود ہیں۔ اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ، پنجاب حکومت اور متعلقہ اداروں سے رابطے کرکے اراضی کے حصول کیلئے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔گورننگ باڈی نے وزارت اطلاعات سے مطالبہ کیا کہ غیر ملکی میڈیا اداروں سے وابستہ پاکستانی صحافیوں کو ہاؤسنگ سکیموں میں شامل کیا جائے۔ گورننگ باڈی نے مؤقف اختیار کیا کہ نیشنل پریس کلب کے باقاعدہ ممبر اور غیر ملکی میڈیا اداروں میں خدمات انجام دینے والے پاکستانی صحافی بھی صحافتی کوٹے اور متعلقہ سہولیات کے مساوی حق دار ہیں۔گورننگ باڈی نے نیشنل پریس کلب کی موجودہ عمارت کی جگہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ عالمی معیار کی نئی عمارت کی تعمیر کے منصوبے کا جائزہ لیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ وزارت اطلاعات کے ساتھ اس حوالے سے ابتدائی مشاورت مکمل ہو چکی ہے اور حکومت سے خصوصی گرانٹ کے ذریعے منصوبے کی تکمیل کی درخواست کی جائے گی۔ مجوزہ منصوبے میں جدید کانفرنس ہالز، بین الاقوامی میڈیا سہولیات، کمرشل اسپیس اور مستقل آمدنی کے ذرائع شامل کرنے کی تجاویز زیر غور ہیں۔اجلاس کو بریفنگ دی گئی کہ پریس کلب کی اراضی اور ملکیت سے متعلق ضروری دستاویزات حاصل کر لی گئی ہیں جبکہ سروے اور منصوبہ بندی کا عمل جلد شروع کیا جائے گا، گورننگ باڈی نےوفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ سے فوری مطالبہ کیا کہ آئی ٹی این ای میں جج کی تعیناتی اور پیمرا کونسل آف کمپلینٹ میں ممبران کی فوری تعیناتی کی جائے تاکہ میڈیاہاؤسز میں کام کرنے والے صحافیوں اور ورکرز کے مالی مسائل حل ہو سکیں، گورننگ باڈی نے اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے مساوی دیگر پریس کلبز کے قیام کی خبروں کی سختی سے مذمت کی اور متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ ان کلبز کے قیام کا اعلان کرنے والے این پی سی ممبران کی ممبر شپ معطل کر کے شوکاز نوٹس جاری کئے جائیں اور نیشنل پریس کلب کے وقار پرکسی بھی صورت آنچ نہیں آنے دی جائیگی، گورننگ باڈی کے دو اراکین کی تعیناتی کے حوالے سے گورننگ باڈی کو بتایا گیاکہ اس پر قانونی رائے لینے کیلئے سپریم کورٹ ،اسلام آباد ہائیکورٹ راولپنڈی ہائیکورٹ اور لاہور ہائیکورٹ بارز کے سینئر وکلاء سے رائے لی جائے گی تاکہ اس ابہام کو ہمیشہ کیلئے حل کیا جا سکے۔








