اسلام آباد()2019 میں بھارہ کہومیںاغواء کے بعد سفاکیت کے ساتھ قتل ہونے پانچ سالہ معصوم بچے عمر راٹھور کے والد مختار احمد راٹھورنےسپریم کورٹ کی طرف سے قاتلوں کی دو دو بار سزائے موت کو عمر قید میں بدلنے کے فیصلے کو مسترد اور اسے انصاف کا قتل قرار دیتے ہوئے نظرثانی اپیل دائرکرنے کا اعلان کیا ہے، چیف جسٹس آف پاکستان، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم سے اپیل ہےکہ وہ کیس کا دوبارہ از سر نو نیا بینچ تشکیل دے کر انصاف کے تقاضے پورے کریں ورنہ پورے خاندان سمیت سپریم کورٹ آف پاکستان کے سامنے خود کشی کرنے پر مجبور ہونگے، نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں اپنی بیٹی بیٹے ،داماد اور خاندان کے دوسرے افراد کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مختار احمدراٹھور کا مزید کہنا تھا کہ21دسمبر 2019کو انکے پانچ سالہ معصوم بیٹے کو بھارہ کہو کے علاقے میںمحلے کے چار لڑکوں نے اغواء کرنے کے بعد انتہائی بے دردی اورسفاکیت کیساتھ قتل کر دیا تھا جسکی منہ اور ہاتھ پاؤں ٹیپوں میں جکڑی ہوئی لاش ایک کرائے کے مکان میں واقع الماری سے برآمد ہوئی تھی،2023ء میںٹرائل کورٹ سے جرم ثابت ہونے پر تین ملزمان کو دو دو بار سزائے موت جبکہ ایک ملزم کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا گیا تھا،یہ سزا اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھی تاہم ملزمان کی طرف سے سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کی گئیں جس پر سپریم کورٹ نے 13 مئی کو ملزمان کی دو دوبار سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا ہے جو کہ سرا سر نا انصافی، انصاف کا قتل اور سفاک قاتلوں کو بے گناہوں کو قتل کرنے کا لائسنس دینے کے مترادف ہے،سپریم کورٹ نےاپنے فیصلے میں سزا کم کرنے کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں بتائی حالانکہ کیس میں تینوںملزمان کے فنگر پرنٹس اور ڈی این اے میچ تھے اور ملزمان کا اقبال جرم بھی موجود تھا،ان کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے مقتول کے ورثاء کوشدید صدمہ پہنچا ہے کیونکہ انکامعصوم بچہ بنا کسی دشمنی کے درندے قاتلوں نے سفاکیت اور بربریت سے قتل کیا تھا، ان سفاک ملزمان کو نشان عبرت بننا چاہیے تھا لیکن صد افسوس کہ عدالت عالیہ نے انصاف کا قتل کردیا ہے،انہوں نے کہا کہ مظلوم خاندان دوبارہ قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئےفیصلے کیخلاف نظر ثانی اپیل دائر کریگا، انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم سے اپیل کی کہ وہ کیس کا دوبارہ از سر نو نیا بینچ تشکیل دے کر انصاف کے تقاضے پورے کریں تاکہ آئندہ کسی اور عمر اورخاندان کو اس صورتحال سے نہ گزرنا پڑے، انہوں نے مزید کہا کہ اگر متاثرہ خاندان کو انصاف نہ ملا اور قاتلوں کو انکے انجام تک نہ پہنچایا گیا تو وہ پوری فیملی سمیت سپریم کورٹ آف پاکستان کے سامنے خود کشی کرنے پر مجبور ہونگے۔








