• Upcoming Events
  • Constitution
  • Members
  • About
Tuesday, October 27, 2026
National Press Club

National Press Club

No Result
View All Result
  • The Club
    • History & Mission
    • Current Cabinet
    • Constitution
  • Press Release
    • Press Releases – Urdu
    • Press Releases English
  • Events & Announcements
    • Event Gallery
    • Notifications
  • MOU
    • Education
    • Health
  • Activities
  • Members
  • About
  • Contact
  • The Club
    • History & Mission
    • Current Cabinet
    • Constitution
  • Press Release
    • Press Releases – Urdu
    • Press Releases English
  • Events & Announcements
    • Event Gallery
    • Notifications
  • MOU
    • Education
    • Health
  • Activities
  • Members
  • About
  • Contact
No Result
View All Result
National Press Club
No Result
View All Result
Home Press Releases - Urdu

کراچی کو بااختیار انتظامی یونٹ یا صوبہ بنایا جائے، کراچی نیشنل موومنٹ کا مطالبہ

News Desk by News Desk
August 31, 2026
in Press Releases - Urdu
0
کراچی کو بااختیار انتظامی یونٹ یا صوبہ بنایا جائے، کراچی نیشنل موومنٹ کا مطالبہ

کراچی والے غدار نہیں، پاکستانی ہیں اور انہیں سزا دینے کا سلسلہ بند کیا جائے، پریس کانفرنس
اسلام آباد (سٹی رپورٹر) کراچی نیشنل موومنٹ کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی کو اس کی آبادی، معاشی اہمیت اور قومی خدمات کے مطابق بااختیار انتظامی یونٹ یا صوبے کا درجہ دیا جائے، کراچی کے شہریوں کو بنیادی سہولیات، سیاسی اختیار اور وسائل پر مؤثر حق دیا جائے اور شہر کے مسائل کے مستقل حل کے لیے واضح اختیارات اور جواب دہی کا نظام قائم کیا جائے، “کراچی والے غدار نہیں، پاکستانی ہیں اور انہیں سزا دینے کا سلسلہ بند کیا جائے۔” کراچی کے عوام اب کسی لسانی سازش کا شکار نہیں ہونا چاہتے۔ کراچی میں گروہی، لسانی اور فرقہ وارانہ سیاست کے بجائے قومی سیاست کو فروغ دیا جائے، کراچی میں ہونے والے حادثات اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ میں ناکامی کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرکے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے،کراچی نیشنل موومنٹ ریاست کی جانب سے نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بنانےکے اقدام کی حمایت کرے گی، نئے صوبوں کی تشکیل زبان، نسل یا قومیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ تاریخی، جغرافیائی، انتظامی اور معاشی بنیادوں پر ہونی چاہیے، صوبائی حیثیت کی صورت میں کراچی اپنے وسائل، بجٹ اور ترقیاتی ترجیحات کو براہ راست اپنی ضروریات کے مطابق استعمال کرسکے گا اور ایک منتخب حکومت شہریوں کے سامنے جواب دہ ہوگی۔نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئےکراچی نیشنل موؤمنٹ کے کنوینئر اشرف جبار قریشی، ہیڈ مہاجر اتحاد تحریک ڈاکٹر سلیم حیدر، سابق مشیر وزیر اعظم سردار اقبال، چیئرمین کراچی گرینڈ الائنس اسلم خان، چیئرمین فیڈرل ٹریٹری الائنس ظفر الجمیل شیخ اور وائس چیئرمین گرینڈ الائنس سید یوسف امام نے کہا کہ کراچی منی پاکستان اور ملک کا معاشی، تجارتی و صنعتی مرکز ہے، تاہم طویل عرصے سے شہر کو اس کی معاشی اہمیت کے مطابق وسائل، اختیارات اور سہولیات نہیں مل رہیں، کراچی کو 1967ء میں دارالحکومت کی منتقلی کے بعد مسلسل نظر انداز کیا گیا، جبکہ 1986ء کے بعد لسانی سیاست اور بدامنی نے شہر کے سماجی، معاشی اور تعلیمی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا۔ اس دوران ہزاروں خاندان متاثر ہوئے اور کراچی کے نوجوانوں کے لیے تعلیم، روزگار اور کاروبار کے مواقع محدود ہوتے گئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی جدوجہد کسی پنجابی، سندھی، مہاجر یا پختون کے خلاف نہیں بلکہ کراچی میں بسنے والے تمام شہریوں کے حقوق کے لیے ہے۔رہنماؤں نے کہا کہ “کراچی والے غدار نہیں، پاکستانی ہیں اور انہیں سزا دینے کا سلسلہ بند کیا جائے۔” کراچی کے عوام اب کسی لسانی سازش کا شکار نہیں ہونا چاہتے اور ان کی جدوجہد کا مقصد شہر کو قومی دھارے میں واپس لانا ہے۔ کراچی نیشنل موومنٹ کا نام ہی اس بات کا عکاس ہے کہ کراچی میں گروہی، لسانی اور فرقہ وارانہ سیاست کے بجائے قومی سیاست کو فروغ دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے موجودہ سیاسی و انتظامی نظام نے شہریوں کو بنیادی مسائل کے حل کے لیے مختلف اداروں کے درمیان دھکے کھانے پر مجبور کردیا ہے۔ پانی، صفائی، ٹرانسپورٹ، سڑکوں، بجلی، سیوریج، کچرے اور امن وامان کے معاملات مختلف اداروں میں تقسیم ہیں، جس کے باعث نہ کسی ایک ادارے کے پاس مکمل اختیار ہے اور نہ ہی کسی ایک کے پاس مکمل جواب دہی۔ نتیجتاً منصوبے اور اعلانات تو ہوتے ہیں لیکن شہری مسائل مستقل بنیادوں پر حل نہیں ہوتے۔کراچی نیشنل موومنٹ کے رہنماؤں نے کہا کہ کراچی کو ایک جامع، طویل المدتی اور بااختیار انتظامی نظام کی ضرورت ہے جس میں اختیارات، وسائل اور جواب دہی تینوں واضح ہوں۔ ان کے مطابق صوبائی حیثیت کی صورت میں کراچی اپنے وسائل، بجٹ اور ترقیاتی ترجیحات کو براہ راست اپنی ضروریات کے مطابق استعمال کرسکے گا اور ایک منتخب حکومت شہریوں کے سامنے جواب دہ ہوگی۔انہوں نے کہا کہ کراچی صرف پاکستان کا سب سے بڑا شہر نہیں بلکہ ملک کی معیشت، تجارت، صنعت، بندرگاہوں اور مالیاتی نظام میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ اگر کراچی کو جدید انفرا اسٹرکچر، مؤثر پبلک ٹرانسپورٹ، مستقل پانی و بجلی، بہتر امن وامان اور بااختیار مقامی حکومت فراہم کی جائے تو اس کے ثمرات صرف کراچی نہیں بلکہ پورے پاکستان کو حاصل ہوں گے۔رہنماؤں نے حالیہ سانحات اور شہری مسائل میں مبینہ دوہرے معیار پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ کراچی میں گل پلازہ سانحے میں 75 سے زائد افراد کی جانیں ضائع ہوئیں اور اربوں روپے کا نقصان ہوا، تاہم ذمہ داروں کے خلاف وہ ردعمل سامنے نہیں آیا جس کی شہری توقع رکھتے تھے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کراچی میں ہونے والے حادثات اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ میں ناکامی کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرکے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے،کسی بھی صوبے کو کسی ایک لسانی گروہ کی ملکیت قرار نہیں دیا جاسکتا بلکہ وہاں آباد تمام شہری برابر کے حقوق رکھتے ہیں۔رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ کراچی کی انتظامی و سیاسی قیادت کو تبدیل کرکے شہر کے حقیقی مسائل کو سمجھنے والی بااختیار قیادت سامنے لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام کو نمائندگی کے نام پر ایسے سیاسی ڈھانچوں کے حوالے نہیں کیا جاسکتا جو شہریوں کے بنیادی مسائل حل کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام کے دوران امن وامان کی صورتحال کو بھی خصوصی اہمیت دی جائے اور کسی بھی ممکنہ
بدامنی سے نمٹنے کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات کیے جائیں، کیونکہ کراچی میں کسی نئے سانحے کے متحمل ہونے کی گنجائش نہیں۔کراچی نیشنل موومنٹ کے رہنماؤں نے صحافیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ “ہم کراچی سے کسی لسانی تقسیم کے لیے نہیں بلکہ قومی یکجہتی کے لیے آئے ہیں۔ ہمارا مطالبہ کراچی کے چار کروڑ شہریوں کے لیے اختیار، وسائل اور جواب دہی ہے۔” انہوں نے کہا کہ کراچی کو بااختیار انتظامی اکائی بنانے کا مقصد پاکستان کو کمزور کرنا نہیں بلکہ ملک کے سب سے بڑے معاشی مرکز کو مضبوط بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی کو صوبہ بنانے کی بحث کو لسانی یا نسلی تنازع بنانے کے بجائے انتظامی اصلاحات، بہتر حکمرانی اور عوامی اختیار کے تناظر میں دیکھا جائے۔ کراچی کا صوبہ ان کے لیے محض نقشے پر ایک نئی لکیر نہیں بلکہ اختیار، وسائل، ترقی اور جواب دہی کا نام ہے۔

Views: 131
ShareTweet
News Desk

News Desk

Related Posts

فاٹا کی آئینی حیثیت کی بحالی کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے، قبائلی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، فاٹا قومی جرگہ
Press Releases - Urdu

فاٹا کی آئینی حیثیت کی بحالی کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے، قبائلی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، فاٹا قومی جرگہ

October 26, 2026
کشمیر پر بھارتی قبضہ کشمیری عوام نے کبھی تسلیم نہیں کیا، حقِ خودارادیت کی جدوجہد جاری رہے گی، مقررین
Press Releases - Urdu

کشمیر پر بھارتی قبضہ کشمیری عوام نے کبھی تسلیم نہیں کیا، حقِ خودارادیت کی جدوجہد جاری رہے گی، مقررین

October 26, 2026
جرمن پریس ایسوسی ایشن کے وفد کا نیشنل پریس کلب اسلام آباد کا دورہ
Press Releases - Urdu

جرمن پریس ایسوسی ایشن کے وفد کا نیشنل پریس کلب اسلام آباد کا دورہ

October 20, 2026
پاکستان کے خلاف بات کرنے والوں کی نسلیں تباہ کردیں گے، فیصل واڈا
Press Releases - Urdu

پاکستان کے خلاف بات کرنے والوں کی نسلیں تباہ کردیں گے، فیصل واڈا

October 13, 2026
پاکستان اور ملائیشیا کے تعلقات کو تجارت، سرمایہ کاری اور تعلیم کے شعبوں میں وسعت دینا چاہتے ہیں، ملائیشین ہائی کمشنر
Press Releases - Urdu

پاکستان اور ملائیشیا کے تعلقات کو تجارت، سرمایہ کاری اور تعلیم کے شعبوں میں وسعت دینا چاہتے ہیں، ملائیشین ہائی کمشنر

October 13, 2026
پاک سعودی یکجہتی کونسل کاسعودی عرب کے ساتھ اظہار یکجہتی،حوثیوں کے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت
Press Releases - Urdu

پاک سعودی یکجہتی کونسل کاسعودی عرب کے ساتھ اظہار یکجہتی،حوثیوں کے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت

October 13, 2026
Load More
Next Post
نیشنل پریس کلب اور آئی ڈی سی کے درمیان معاہدہ، ممبران انکی فیملیز اوروالدین کو خصوصی رعایت حاصل ہوگی

نیشنل پریس کلب اور آئی ڈی سی کے درمیان معاہدہ، ممبران انکی فیملیز اوروالدین کو خصوصی رعایت حاصل ہوگی

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Popular News

  • May Events

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • وفاقی وزیر اطلاعات کا نیشنل پریس کلب کی ویب سائٹ کا افتتاح

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • ثقلین مشتاق ہائٹس کے متاثرین کا منصوبے کی تکمیل یا رقم کی واپسی کا مطالبہ

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • نیشنل پریس کلب کی منیزے جہانگیر کو آف ایئر کیے جانے کی مذمت، آج ٹی وی ملازمین کو تین ماہ کی تنخواہوں کی فوری ادائیگی کا مطالبہ

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • صحافیوں کی استعدادِ کار میں اضافے کیلئے عملی اقدامات ناگزیر ہیں، سیدہ آمنہ بتول

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

By Categories

  • Education
  • Event Gallery
  • Health
  • MOU
  • Notifications
  • Press Releases
  • Press Releases – Urdu
  • Uncategorized
National Press Club

National Press Club

The National Press Club (NPC) of Islamabad, Pakistan, is the premier representative body of 3350 journalists based in the federal capital and Rawalpindi. As a central hub for media, it acts as a venue for press conferences, networking, and defending press freedom, featuring amenities like a library, cafeteria, and a mosque.

Our Social Media

  • Upcoming Events
  • Constitution
  • Members
  • About

© 2026 National Press Club of Pakistan- All Rights Reserved - Powered By Saad Rauf

No Result
View All Result
  • The Club
    • History & Mission
    • Current Cabinet
    • Constitution
  • Press Release
    • Press Releases – Urdu
    • Press Releases English
  • Events & Announcements
    • Event Gallery
    • Notifications
  • MOU
    • Education
    • Health
  • Activities
  • Members
  • About
  • Contact

© 2026 National Press Club of Pakistan- All Rights Reserved - Powered By Saad Rauf