اسلام آباد() سماجی و سیاسی کارکن اور سابق مشیر ریاست آزاد جموں و کشمیر زبیر احمد جرال نے آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین جموں و کشمیر کی مخصوص نشستیں ختم کرنے کی تجویز کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہاجرین کشمیر کی 12 مخصوص نشستیں برقرار رکھی جائیں، پاکستان میں کشمیریوں سے ان کی شناخت اور نمائندگی چھیننے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی، اگر پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کی 12 مخصوص نشستیں ختم کرنی ہیں تو پھر برطانیہ، امریکہ، کینیڈا اور یورپ میں آباد دوہری شہریت رکھنے والے کشمیریوں کے ووٹ اور نمائندگی پر بھی یکساں قانون لاگو ہونا چاہیے، آزاد کشمیر میں رہنے والا شخص وزیر، مشیر اور دیگر اہم عہدوں پر فائز ہو سکتا ہے، لیکن پاکستان میں مقیم کشمیریوں کو ان کے بنیادی سیاسی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے، مہاجر نشستوں سے متعلق ووٹر لسٹیں جعلی بنیادوں پر مرتب کی گئی ہیں، پاکستان میں مقیم کشمیریوں سے ان کی شناخت نہ چھینی جائے اور انہیں ان کے سیاسی و آئینی حقوق دئیے جائیں، کشمیر میں بعض عناصر کے دھرنوں اور احتجاجی سرگرمیوں کے اخراجات کے ذرائع کی تحقیقات ہونی چاہئیں، آزاد کشمیر میں سیاسی ٹکٹوں کی تقسیم میں بھی خاندانی سیاست کو فروغ دیا جا رہا ہے جبکہ نظریاتی کارکن مسلسل نظر انداز ہو رہے ہیں، نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں مرزا ریاض اور چوہدری رمضان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے زبیر احمد جرال نے کہا کہ ہمارے پاس بھی وہی پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ ہے جو ملک کے دیگر شہریوں کے پاس ہے، ہمیں غدار قرار دینا یا ہماری شناخت ختم کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں،کشمیری ہونے کے باوجود منگلا اور میرپور کے رہائشیوں کو اکثر پاکستانی سمجھا جاتا ہے، زبیر احمد جرال نے کہا کہ ایک جانب مہاجرین کی 12 نشستیں ختم کرنے کی بات کی جا رہی ہے ،جس کے باعث انہیں مہاجرینِ کشمیر کی مخصوص نشستوں پر انتخابات میں حصہ لینے سے محروم رکھا جاتا ہے، لاکھوں کشمیری 1947ء کی ہجرت کے بعد پاکستان آئے اور انہوں نے بے شمار قربانیاں دیں، اس لیے ان کی نمائندگی ختم کرنا تاریخ اور قربانیوں سے انکار کے مترادف ہوگا، اگر نشستیں ختم کی جاتی ہیں تو بیرون ملک مقیم کشمیریوں کے لیے بھی ایک ہی اصول اپنایا جائے،انہوں نے کہا کہ ان کے اپنے چار سگے بھائی لاہور میں رہتے ہیں مگر انہیں کشمیری تسلیم نہیں کیا جاتا جبکہ دوسری جانب لاکھوں کشمیری بیرون ممالک میں رہتے ہوئے بھی ووٹ ڈالنے کے حق سے مستفید ہو رہے ہیں،پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے زبیر احمد جرال نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی جماعت قربانیوں کی علامت تھی تاہم آج پارٹی نظریاتی کارکنوں کو نظر انداز کر کے کمرشل سیاست کی طرف بڑھ چکی ہے، جو لوگ کل تک بلاول بھٹو کے مخالف تھے آج وہ پارٹی کے امیدوار بنے ہوئے ہیں ، پارٹی اپنے بانی ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو کے نظریات سے دور ہو چکی ہے اور پارٹی میں نظریاتی کارکنوں کو نظر انداز جبکہ مفاد پرست عناصر کو اہم عہدے اور ٹکٹ دئیے جا رہے ہیں جبکہ شہداء اور نظریاتی کارکنوں کی قربانیوں کو بھی فراموش کر دیا گیا ہے اورانہیں ملاقات تک کا موقع نہیں دیا جاتا، انہوں نے مطالبہ کیا کہ آزاد کشمیر میں شہداء کی یادگاریں تعمیر کی جائیں اور نظریاتی کارکنوں کو ان کا جائز مقام دیا جائے،الیکشن کمیشن آزاد جموں و کشمیر کو چیلنج کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ مہاجر نشستوں سے متعلق ووٹر لسٹیں درست نہیں بلکہ جعلی بنیادوں پر مرتب کی گئی ہیں، ذوالفقار علی بھٹو نے مسئلہ کشمیر کو ہمیشہ اپنی سیاست کا اہم حصہ بنایا، مگر آج پارٹی قیادت کشمیریوں کے بنیادی حقوق اور نمائندگی کے تحفظ میں مؤثر کردار ادا نہیں کر رہی،زبیر احمد جرال نے آزاد کشمیر اور پاکستان کی سیاسی قیادت سے مطالبہ کیا کہ مہاجرین جموں و کشمیر کی مخصوص نشستوں کو برقرار رکھا جائے اور کشمیریوں کی شناخت، حقِ نمائندگی اور آئینی حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے، کشمیری پاکستان کے وفادار ہیں اور ان کی حب الوطنی پر سوال اٹھانا مناسب نہیں۔انہوں نے آرمی چیف، وزیراعظم پاکستان، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر قومی قیادت سے اپیل کی کہزبیر احمد جرال نے کہا کہ کشمیر میں بعض عناصر کے دھرنوں اور احتجاجی سرگرمیوں کے اخراجات کے ذرائع کی تحقیقات ہونی چاہئیں، ان سرگرمیوں کی مالی معاونت کہاں سے ہو رہی ہے، مسئلہ کشمیر کو سیاسی تنازعات سے بالاتر ہو کر حل کیا جائے، اشتعال انگیزی سے گریز کیا جائے اور ایسا کوئی فیصلہ نہ کیا جائے جس سے کشمیری عوام میں احساسِ محرومی پیدا ہو۔








