اسلام آباد (سٹی رپورٹر) مکمل پاکستان پارٹی کے چیئرمین محمد عبدالمتین ہاشمی نےپاکستانی روپے کے لیے ایک منفرد قومی علامت (لوگو) متعارف کرانے کا اعلان کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اسے سرکاری سطح پر منظور کرکے تمام قومی و بین الاقوامی مالیاتی اداروں میں رائج کیا جائے، یہ نشان کسی فرد یا سیاسی جماعت کی ملکیت نہیں بلکہ ریاستِ پاکستان اور پوری قوم کا مشترکہ اثاثہ ہونا چاہیے، ، اردو کو عملی طور پر دفتری، تعلیمی اور انتظامی زبان بنایا جائے اور سپریم کورٹ کے فیصلے پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے، پاکستان کے قدرتی وسائل بے شمار ہیں، مگر ناقص پالیسیوں، بھاری ٹیکسوں، مہنگی بجلی اور غیر مؤثر نظام کی وجہ سے ملکی صنعت عالمی سطح پر مقابلہ نہیں کر پا رہی، مقامی صنعت کو سہولیات فراہم کر کے روزگار کے مواقع بڑھائے جا سکتے ہیں،نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی کرنسیوں کی اپنی الگ شناخت ہوتی ہے، جبکہ پاکستان 78 برس گزرنے کے باوجود اپنی کرنسی کی کوئی باقاعدہ علامت متعارف نہیں کرا سکا۔ پاکستانی روپے کے لیے پیش کردہ علامت اردو کے حرف “ر” پر مبنی ہے، جو قومی زبان اور ملکی شناخت کی نمائندگی کرتی ہے، جبکہ اس کے اوپر دو متوازی لکیریں معیشت کے استحکام کی علامت ہیں۔محمد عبدالمتین ہاشمی نے کہا کہ یہ نشان کسی فرد یا سیاسی جماعت کی ملکیت نہیں بلکہ ریاستِ پاکستان اور پوری قوم کا مشترکہ اثاثہ ہونا چاہیے، اسی لیے انہوں نے اسے اپنے نام سے رجسٹرڈ کرانے کے بجائے حکومت کو بطور قومی تحفہ پیش کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ہر شعبے میں اپنی قومی شناخت مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اردو کو عملی طور پر دفتری، تعلیمی اور انتظامی زبان بنایا جائے اور سپریم کورٹ کے فیصلے پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ انگریزی کی وجہ سے ملک میں احساسِ کمتری پیدا ہوا ہے اور لاکھوں طلبہ صرف زبان کی رکاوٹ کے باعث اپنی تعلیم مکمل نہیں کر پاتے۔مکمل پاکستان پارٹی کے منشور پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت بلدیاتی نظام کے تسلسل، ماحول دوست صنعتوں کے فروغ، خواتین کے معاشی و سماجی استحکام، شفاف طرزِ حکمرانی، مقامی صنعتوں کے تحفظ، جدید ٹیکنالوجی میں خود انحصاری اور قومی معیشت کی مضبوطی پر یقین رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قدرتی وسائل بے شمار ہیں، مگر ناقص پالیسیوں، بھاری ٹیکسوں، مہنگی بجلی اور غیر مؤثر نظام کی وجہ سے ملکی صنعت عالمی سطح پر مقابلہ نہیں کر پا رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی صنعت کو سہولیات فراہم کر کے روزگار کے مواقع بڑھائے جا سکتے ہیں۔ملکی امن و امان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے محمد عبدالمتین ہاشمی نے کہا کہ تمام مسائل کا حل مذاکرات اور قومی اتفاقِ رائے میں ہے، تاہم جہاں ریاستی رٹ قائم رکھنے کے لیے سختی ضروری ہو وہاں قانون کے مطابق کارروائی بھی ہونی چاہیے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت اقتدار میں آکر عوامی مفاد کو اولین ترجیح دے گی، مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سمیت دیگر معاشی مسائل کو بہتر حکمت عملی سے حل کیا جائے گا۔انہوں نے بلدیاتی انتخابات کے بروقت انعقاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مضبوط بلدیاتی نظام ہی حقیقی جمہوریت اور عام آدمی کی سیاسی نمائندگی کی ضمانت ہے، کیونکہ متوسط طبقے کے لیے قومی اسمبلی کے مقابلے میں بلدیاتی سطح پر سیاست میں حصہ لینا زیادہ ممکن ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مکمل پاکستان پارٹی اپنی سیاسی جدوجہد میں قومی شناخت، مضبوط معیشت، اردو کے فروغ، مقامی زبانوں کے احترام، تعلیم، خواتین کے بااختیار کردار اور خود انحصار پاکستان کے وژن کو آگے بڑھائے گی۔








