اسلام آباد(سٹی رپورٹر)شالیمار ریکارڈنگ اینڈ براڈکاسٹنگ کمپنی (ایس آر بی سی) اور اے ٹی وی کے ملازمین نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت سے ادارے کو دوبارہ فعال کرنے، جبری طور پر ریٹائر کیے گئے ملازمین کو بحال کرنے، ریٹائرڈ ملازمین کے فل اینڈ فائنل واجبات اور دیگر مالی حقوق فوری ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یونین کے جنرل سیکرٹری اطہر حیات خان، ریٹائر ملازمین کے نمائندہ واجد عباسی و دیگر کا کہناتھا کہ شالیمار ریکارڈنگ اینڈ براڈکاسٹنگ کمپنی ایک وقت میں ملک کا ایک مضبوط اور کامیاب قومی ادارہ تھا، جس نے اپنے وسائل سے ترقی کی اور بڑی تعداد میں لوگوں کو روزگار فراہم کیا۔ ادارہ ماضی میں منافع بخش رہا اور ملازمین کو بونس سمیت مختلف مراعات بھی فراہم کی جاتی رہیں۔انہوں نے کہا کہ مختلف ادوار میں ادارے کے انتظامی معاملات میں غیر ضروری مداخلت، غیر تجربہ کار انتظامیہ اور مسلسل نظرانداز کیے جانے کے باعث ادارہ تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا گیا۔ اے ٹی وی ایک وقت میں پاکستان ٹیلی ویژن سمیت بڑے نشریاتی اداروں کے ساتھ مؤثر مقابلہ کرتا تھا، تاہم مناسب انتظامی پالیسی نہ ہونے کے باعث اسے بتدریج کمزور کیا گیا۔ملازمین کا کہنا تھا کہ طویل عرصے سے ادارے کے سینکڑوں ملازمین کو تنخواہوں، پنشن، پروویڈنٹ فنڈ، گریجویٹی اور دیگر واجبات کی ادائیگی کے مسائل کا سامنا ہے۔ کئی ملازمین نے 15، 20، 25 اور حتیٰ کہ 30 سال تک ادارے میں خدمات انجام دیں، لیکن انہیں جبری طور پر ریٹائر کر کے گھروں کو بھیج دیا گیا۔ملازمین نے الزام عائد کیا کہ ادارے کو لیکویڈیشن کی طرف لے جایا جا رہا ہے اور اس کے اثاثوں اور جائیداد سے متعلق بھی فیصلے کیے جا رہے ہیں، جبکہ ملازمین کے مستقبل اور ان کے واجبات کی ادائیگی پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔یونین نمائندگان نے کہا کہ اس وقت ادارے میں تقریباً 265 ملازمین باقی رہ گئے ہیں، جن میں کیمرہ مین، ٹی وی انجینئرز، آئی ٹی ماہرین اور دیگر تجربہ کار تکنیکی و انتظامی افراد شامل ہیں۔ حکومت اگر ادارہ بحال نہیں کر سکتی تو ان تجربہ کار ملازمین کو پی ٹی وی، ریڈیو پاکستان یا دیگر سرکاری میڈیا اداروں میں ایڈجسٹ کیا جائے تاکہ وہ اپنے خاندانوں کا باعزت طریقے سے کفالت کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ متعدد ریٹائرڈ ملازمین کئی سال گزرنے کے باوجود اپنے فل اینڈ فائنل واجبات کے حصول کے لیے دفاتر اور عدالتوں کے چکر لگا رہے ہیں۔ 60 سال کی عمر میں ریٹائر ہونے والے شخص کے لیے اگر اس کے واجب الادا مالی حقوق بھی ادا نہ کیے جائیں تو وہ اپنی بقیہ زندگی کیسے گزار سکتا ہے۔ریٹائرڈ ملازمین کے نمائندے نے کہا کہ 2018 اور 2019 کے بعد ریٹائر ہونے والے متعدد ملازمین کو بھی ان کے واجبات نہیں مل سکے، جس کے باعث وہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مالی مشکلات اور علاج معالجے کی سہولیات نہ ملنے کے باعث متعدد ملازمین جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ملازمین نے وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا تارڑ اور حکومت سے اپیل کی کہ ماضی میں ادارے کے دوروں کے دوران کیے گئے وعدوں کو عملی شکل دی جائے اور اے ٹی وی و شالیمار ریکارڈنگ اینڈ براڈکاسٹنگ کمپنی کو دوبارہ فعال کیا جائے۔ملازمین کا کہنا تھا کہ حکومت دیگر سرکاری اداروں کے ملازمین کے لیے بجٹ مختص کر رہی ہے، لہٰذا شالیمار ریکارڈنگ اینڈ براڈکاسٹنگ کمپنی کے ملازمین کو بھی نظرانداز نہ کیا جائے۔ جبری ریٹائرمنٹ کا فیصلہ واپس لیا جائے، ادارے کو بحال کیا جائے اور جو ملازمین ریٹائر ہو چکے ہیں انہیں ان کے تمام واجبات فوری ادا کیے جائیں۔پریس کانفرنس کے شرکاء نے کہا کہ وہ طویل عرصے سے اپنے حقوق کے لیے احتجاج اور متعلقہ حکام سے رابطے کر رہے ہیں، مگر تاحال انہیں عملی ریلیف نہیں مل سکا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان، وزیر اطلاعات و نشریات اور دیگر اعلیٰ حکام سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ سینکڑوں خاندانوں کو مزید معاشی مشکلات سے بچانے کے لیے ادارے اور اس کے ملازمین کے مستقبل کا فیصلہ فوری کیا جائے۔








