اسلام آباد()ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائی ڈی اے) پاکستان کےوائس چیئرمین ڈاکٹر یاسر اچکزئی، ترجمان ڈاکٹر فیض خان اچکزئی، چیئرمین وائی ڈی اے بلوچستان ڈاکٹر بہار شاہ اور دیگر رہنماؤں نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلوچستان میں لیڈی ڈاکٹر ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر دورانِ ڈیوٹی تیزاب پھینکنے کے افسوسناک واقعے کی شدید مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف عدالتی تحقیقات کر کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وائی ڈی اے پنجاب کے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر سلمان حسیب چوہدری نے کہا کہ ڈاکٹر ماہ نور پر حملہ صرف ایک فرد پر نہیں بلکہ پورے شعبہ صحت اور بلوچستان کے نوجوانوں پر حملہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے نوجوان پہلے ہی احساسِ محرومی کا شکار ہیں جبکہ ڈاکٹرز کو بھی مسلسل عدم تحفظ، پولیس کارروائیوں اور انتظامی نااہلی کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں صحت کا نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے، سرکاری اسپتالوں میں بنیادی سہولیات، ادویات، ٹیسٹ اور ماہر ڈاکٹرز کی شدید کمی ہے، جبکہ ڈاکٹرز ہر روز جان کے خطرات کے باوجود خدمات انجام دے رہے ہیں۔چیئرمین وائی ڈی اے بلوچستان ڈاکٹر بہار شاہ نے کہا کہ ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر حملہ سیکیورٹی کی سنگین ناکامی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سول اسپتال کوئٹہ میں سیکیورٹی کیمرے خراب تھے، اسپتال انتظامیہ اور محکمہ صحت کو متعدد بار سیکیورٹی خدشات سے آگاہ کیا گیا مگر کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی اسپتال کے اندر متعدد سیکیورٹی واقعات پیش آ چکے ہیں، مگر انتظامیہ نے انہیں سنجیدگی سے نہیں لیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سیکریٹری صحت بلوچستان اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سول اسپتال کو معطل کر کے ان کے خلاف آزادانہ اور شفاف عدالتی انکوائری کرائی جائے تاکہ حقائق سامنے آسکیں۔ڈاکٹر بہار شاہ نے مزید کہا کہ بلوچستان میں ڈاکٹروں، اساتذہ اور دیگر سرکاری ملازمین کو مسلسل دباؤ، ہراسانی اور انتقامی کارروائیوں کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق احتجاج کرنے والے ڈاکٹرز کو معطل کیا جا رہا ہے جبکہ کرپشن اور بدانتظامی کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔وائی ڈی اے پاکستان کے وائس چیئرمین ڈاکٹر یاسر اچکزئی نے کہا کہ بلوچستان کے اسپتالوں میں ڈاکٹرز مریضوں کی خدمت کے لیے موجود ہوتے ہیں، جنگی محاذ پر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک اسپتالوں میں مؤثر سیکیورٹی فراہم نہیں کی جاتی، ڈاکٹرز خصوصاً خواتین ڈاکٹرز محفوظ ماحول میں خدمات انجام نہیں دے سکتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بلوچستان میں ڈاکٹرز کے تحفظ کو یقینی نہ بنایا گیا تو احتجاج کا دائرہ پورے ملک تک وسیع کیا جائے گا۔پریزیڈنٹ وائی ڈی اے پنجاب ڈاکٹر شعیب نیازی نے بلوچستان کے ڈاکٹرز سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر حملہ پوری دنیا میں دورانِ ڈیوٹی خاتون ڈاکٹر پر تیزاب گردی کا منفرد اور انتہائی افسوسناک واقعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر متاثرہ ڈاکٹر کو انصاف نہ ملا اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہ ہوئی تو پنجاب سمیت ملک بھر کے ڈاکٹر بلوچستان کے احتجاج میں شریک ہوں گے۔ترجمان وائی ڈی اے پاکستان ڈاکٹر فیض خان اچکزئی نے کہا کہ کورونا وبا سمیت ہر مشکل وقت میں ڈاکٹرز نے اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر قوم کی خدمت کی، مگر آج انہیں تحفظ دینے کے بجائے ہراساں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی مانگنے والے ڈاکٹرز کو معطل کیا جا رہا ہے جبکہ اصل ذمہ دار افسران اپنی کرسیوں پر براجمان ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام معطل ڈاکٹرز کو فوری بحال کیا جائے، اسپتالوں میں سیکیورٹی قانون سازی نافذ کی جائے اور ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر حملے کی غیر جانبدار عدالتی تحقیقات کرائی جائیں۔وائی ڈی اے سندھ کے نمائندے ڈاکٹر منور نے بھی بلوچستان کے ڈاکٹرز کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ چاروں صوبوں کے ڈاکٹر اپنے بلوچ ساتھیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ان کے جائز مطالبات کی مکمل تائید کرتے ہیں۔پریس کانفرنس کے اختتام پر وائی ڈی اے پاکستان نے وفاقی حکومت، وزیراعظم اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر حملے کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے، ذمہ دار افسران کو فوری معطل کیا جائے، بلوچستان سمیت ملک بھر کے سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹرز خصوصاً خواتین ڈاکٹرز کے تحفظ کے لیے “ڈاکٹرز سیکیورٹی لیجسلیشن بل” فوری نافذ کیا جائے، معطل ڈاکٹرز کو بحال کیا جائے اور صحت کے اداروں میں محفوظ اور پرامن ماحول فراہم کیا جائے تاکہ ڈاکٹر بلا خوف و خطر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔








