فاٹا کی انتظامی تبدیلیوں کا خیرمقدم، ایف آر کوہاٹ اور ایف آر پشاور کو مشاورتی کونسل میں شامل کرنے کا مطالبہ،
اسلام آباد (سٹی رپورٹر) فاٹا قومی جرگہ اور فاٹا سپریم کونسل نے فاٹا میں حالیہ انتظامی تبدیلیوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ قبائلی عوام کی مشاورت سے ان کے آئینی تشخص، روایات اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ جرگے نے ایف آر کوہاٹ اور ایف آر پشاور کو فوری طور پر فاٹا کی مشاورتی کونسل میں شامل کرکے نمائندگی دینے اور کونسل کے اختیارات کو مستقل اور بامعنی بنانے پر بھی زور دیا ہے۔فاٹا قومی جرگہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 25ویں آئینی ترمیم 2018 کے ذریعے فاٹا کے انضمام پر قبائلی مشران اور انضمام مخالف تحریکوں کے تحفظات کو نظرانداز کیا گیا۔ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں جرگہ /سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے قبائلی عمائدین/مشران ملک شیر محمد خان (مشر اتمان خیل) سید نظیر مہمند (بریگیڈیئر ریٹائرڈ)جعفر آدم خیل (مشر فاٹا قومی جرگہ)ملک انور اللہ آفریدی (ایڈووکیٹ) و دیگر کا کہنا تھا کہ جرگے کے مطابق قبائلی عوام طویل عرصے سے اپنی روایات، دستور، شناخت اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ فاٹا کی آئینی حیثیت میں تبدیلی سے قبل قبائلی عوام کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے تھا۔بیان میں کہا گیا کہ قبائلی علاقوں نے پاکستان کے دفاع، سلامتی اور ترقی کے لیے نمایاں قربانیاں دی ہیں۔ قبائلی عوام کا مطالبہ ہے کہ ان کی تاریخی حیثیت، روایات اور پاکستان کے ساتھ وابستگی کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔فاٹا قومی جرگے کے مطابق 2016 سے مختلف جرگوں، مشاورتی اجلاسوں اور ریاستی نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے 25ویں آئینی ترمیم پر تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ 14 ستمبر 2021 کو نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں منعقدہ قبائلی جرگے میں بھی ترمیم کے حوالے سے اپنے تحفظات پیش کیے گئے تھے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ 25ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا، جس کے حوالے سے جرگہ اپنی قانونی اور آئینی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتا ہے۔بیان میں حالیہ انتظامی اقدامات کو قبائلی خودمختاری اور روایات کے قریب پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ان اقدامات کی حمایت اس امید کے ساتھ کی جا رہی ہے کہ یہ قبائلی عوام کے مؤقف کو تسلیم کرنے اور ان کے حقوق کے تحفظ کی جانب ابتدائی قدم ثابت ہوں گے۔جرگے نے مطالبہ کیا کہ فاٹا کی مشاورتی کونسل میں تمام متعلقہ قبائلی علاقوں کی مؤثر نمائندگی یقینی بنائی جائے، خصوصاً ایف آر کوہاٹ اور ایف آر پشاور کو فوری طور پر کونسل میں شامل کیا جائے۔ اس کے علاوہ فاٹا کی آئینی حیثیت، قبائلی روایات اور خودمختاری کے معاملے پر واضح اور مستقل پالیسی اختیار کی جائے، جبکہ امن و ترقی کے لیے مشاورتی جرگوں کا سلسلہ شروع کرکے ان کے فیصلوں پر سیاسی مداخلت کے بغیر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔بیان میں اعلان کیا گیا کہ بہت جلد ہر ایجنسی اور متعلقہ علاقوں سے 200، 200 قبائلی مشران اور اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل ایک جامع اور بامقصد مشاورتی جرگہ بلایا جائے گا، جس میں قبائلی مسائل، آئینی حقوق، امن اور ترقی کے حوالے سے آئندہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔آخر میں فاٹا قومی جرگہ نے اے آر ڈی سی کے تمام مشران اور بالخصوص انضمام مخالف تحریک سے وابستہ رہنماؤں کو مبارکباد دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ قبائلی روایات، خودمختاری اور 25ویں آئینی ترمیم سے قبل کی آئینی و انتظامی حیثیت کے حوالے سے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔







