اسلام آباد()اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے باہر ثقلین مشتاق ہائٹس کے متاثرین نے منصوبے کی تکمیل میں طویل تاخیر، وعدہ خلافی اور مالی نقصان کے الزامات عائد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہےکہ منصوبہ فوری طور پر مکمل کر کے اپارٹمنٹس کا قبضہ دیا جائے یا ان کی جمع کرائی گئی رقوم موجودہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق واپس کی جائیں،متعدد خریدار مکمل ادائیگیاں کر چکے ہیں، مگر انہیں آج تک اپارٹمنٹس کا قبضہ نہیں دیا گیا،منصوبے کو حال ہی میںالمقیت ہائٹس کے نام سے سوشل میڈیا پر دوبارہ مارکیٹ کیا جا رہا ہے، جبکہ موجودہ خریداروں کو اس حوالے سے کوئی باضابطہ اطلاع نہیں دی گئی، حکومت، متعلقہ ریگولیٹری اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ منصوبے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور متاثرہ خریداروں کی جمع پونجی کا تحفظ یقینی بنایا جائے،متاثرین کے نمائندگان عدنان راؤ اعوان، مرزا فرحان بیگ، عثمان سعید علوی، عامر توصیف و دیگر نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئےبتایا کہ منصوبہ بحریہ ٹاؤن فیز 8، راولپنڈی میں 50 کنال پر مشتمل رہائشی منصوبے کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا، جس میں سات ٹاورز، 550 اپارٹمنٹس، پینٹ ہاؤسز اور ڈبل بیسمنٹ پارکنگ شامل تھی۔متاثرین کے مطابق منصوبے کی فروخت اور مارکیٹنگ میں خالد اعوان اور خالد اعوان ایسوسی ایٹس بھی شامل تھے، جبکہ منصوبہ معروف کرکٹر ثقلین مشتاق کے نام اور چیئرمین شپ کے تحت متعارف کرایا گیا تھا۔متاثرین نے میڈیا کے سامنے منصوبے کا بروشر، ادائیگیوں کا ریکارڈ، خط و کتابت، قبضے سے متعلق تحریری یقین دہانیاں اور منصوبے کی حالیہ تصاویر و ویڈیوز بھی پیش کیں۔ ان کے مطابق بروشر میں منصوبے کی متوقع تکمیل جون 2020 درج تھی، جبکہ 16 جنوری 2019 کے ایک خط میں ٹاور 7 کا قبضہ 30 جون 2021 تک دینے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، تاہم تقریباً دس سال گزرنے کے باوجود منصوبہ مکمل نہیں ہو سکا۔ ان کے مطابق 2019 میں انتظامیہ نے ایک خط کے ذریعے منصوبے میں مزید ایک سال کی تاخیر سے آگاہ کیا، لیکن اس کے بعد بھی تعمیراتی کام مکمل نہ ہو سکا۔متاثرین کا کہنا تھا کہ منصوبے کے پہلے ٹاور کا گرے اسٹرکچر بھی تاحال مکمل نہیں ہوا جبکہ گزشتہ تین برس سے تعمیراتی سرگرمیاں مکمل طور پر بند ہیں اور منصوبے کا دفتر بھی بند پڑا ہے، عملہ موجود نہیں اور انتظامیہ سے رابطہ کرنا بھی مشکل ہو چکا ہے۔متاثرین نے الزام عائد کیا کہ منصوبے کے مالکان مختلف اوقات میں نئی ڈیڈ لائنز دیتے رہے، تاہم عملی پیش رفت نہ ہو سکی۔ حالیہ ملاقات میں انتظامیہ نے مہنگائی اور تعمیراتی لاگت میں اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے خریداروں سے کاسٹ ایسکلیشن” کے نام پر مزید رقم طلب کی، جسے متاثرین نے مسترد کر دیا، متاثرین نے دعویٰ کیا کہ خط میں یہ بھی درج تھا کہ مقررہ مدت تک قبضہ نہ ملنے کی صورت میں خریدار کو 30 روپے فی مربع فٹ ماہانہ کے حساب سے کرایہ بطور معاوضہ ادا کیا جائے گا۔متاثرین کا کہنا تھا کہ ٹاور 4، ٹاور 5 اور ٹاور 7 کے خریداروں سے بکنگ اور اقساط کی مد میں رقوم وصول کی گئیں، لیکن تعمیراتی کام اس رفتار سے آگے نہیں بڑھا۔ ان کے مطابق ٹاور 4 اور ٹاور 5 پر تعمیراتی کام شروع ہی نہیں کیا گیا جبکہ ٹاور 7 بھی تاحال مکمل گرے اسٹرکچر کے مرحلے تک نہیں پہنچ سکا۔انہوں نے مزید کہا کہ 2020 سے خریدار مسلسل انتظامیہ سے ملاقاتوں، فون کالز، واٹس ایپ پیغامات اور تحریری درخواستوں کے ذریعے نظرثانی شدہ تعمیراتی شیڈول اور واضح ٹائم لائن کا مطالبہ کرتے رہے، تاہم انہیں تسلی بخش روڈ میپ فراہم نہیں کیا گیا۔متاثرین نے یہ بھی اعتراض کیا کہ ٹاور 4 کو Not Launchedظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ ان کے مطابق بکنگ معاہدے، ادائیگیوں کا ریکارڈ اور دیگر دستاویزات اس بات کا ثبوت ہیں کہ اس ٹاور کی بکنگ پہلے ہی کی جا چکی تھی۔پریس کانفرنس کے اختتام پر متاثرین نے کہا کہ ان کے پاس تمام قانونی معاہدے، بینک ریکارڈ اور ادائیگیوں کی تفصیلات موجود ہیں اور وہ قانونی کارروائی کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ انہوں نے حکومت، متعلقہ ریگولیٹری اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ منصوبے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور متاثرہ خریداروں کی جمع پونجی کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔








