اسلام آباد()چیف آف رائل تمن رند، چیئرمین ورلڈ بلوچ اتحاد ویلفیئر آرگنائزیشن اور کوآرڈینیٹر پاکستان مرکزی مسلم لیگ سردار احمد مجتبیٰ رند نے کہا ہے کہ بلوچستان کے موجودہ مسائل کے حل کے لیے جامع سیاسی، انتظامی، معاشی اور سماجی اصلاحات ناگزیر ہیں۔صوبے میں امن و امان قائم کرنے، دہشت گردی اور جرائم کے خاتمے، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ، وفاقی و صوبائی حکومت، قبائلی عمائدین اور ناراض گروہوں کے درمیان بامقصد سیاسی مذاکرات کا آغاز کیا جائے تاکہ دیرینہ شکایات کا حل نکالا جا سکے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں تعلیم اور صحت کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی جائے، نئے اسکول، کالج، اسپتال اور بنیادی مراکز صحت قائم کیے جائیں، جبکہ معدنی وسائل، بندرگاہوں اور جہازرانی سے متعلق تربیتی ادارے قائم کر کے مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں پائیدار امن صرف طاقت سے نہیں بلکہ انصاف، ترقی، تعلیم، روزگار اور مقامی قیادت کو بااختیار بنانے سے ممکن ہے۔انہوں نے اپنے تعارفی کلمات میں کہا کہ ان کا تعلق ریاست بہاولپور کی رائل فیملی سے ہے اور ان کے ماموں نواب جنرل سر صادق محمد خان عباسی ریاست بہاولپور کے آخری نواب تھے، جنہوں نے قیام پاکستان کے وقت قائداعظم محمد علی جناح کے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست بہاولپور نے پاکستان کو فوج، مالی وسائل، بینک آف بہاولپور، اراضی اور دیگر اہم قومی اثاثے فراہم کیے، جنہوں نے ملک کی بنیادوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔سردار احمد مجتبیٰ رند نے کہا کہ ان کا تعلق رند بلوچ خاندان سے ہے اور عظیم بلوچ رہنما میر چاکر اعظم رند کی دستار ان کے خاندان میں نسل در نسل منتقل ہوتی رہی ہے۔ ان کے مطابق بلوچ عوام کی خدمت اور بلوچستان کے استحکام کے لیے عملی اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔انہوں نے بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے متعدد تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں امن و امان قائم کرنے، دہشت گردی اور جرائم کے خاتمے، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ، وفاقی و صوبائی حکومت، قبائلی عمائدین اور ناراض گروہوں کے درمیان بامقصد سیاسی مذاکرات کا آغاز کیا جائے تاکہ دیرینہ شکایات کا حل نکالا جا سکے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں تعلیم اور صحت کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی جائے، نئے اسکول، کالج، اسپتال اور بنیادی مراکز صحت قائم کیے جائیں، جبکہ معدنی وسائل، بندرگاہوں اور جہازرانی سے متعلق تربیتی ادارے قائم کر کے مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں۔ انہوں نے ژوب سے گوادر تک موٹر وے کی تعمیر اور دور دراز علاقوں میں سڑکوں اور مواصلاتی نظام کی بہتری کو بھی ناگزیر قرار دیا۔سردار احمد مجتبیٰ رند نے کہا کہ صوبے میں شفاف طرز حکمرانی، میرٹ پر تقرریاں اور ترقیاتی فنڈز کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جائے۔ ان کے مطابق بلوچستان میں اسلحہ کلچر کے بجائے تعلیم، قلم، کتاب اور تحقیق کے کلچر کو فروغ دینا ہوگا تاکہ نوجوانوں کو مثبت سمت دی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ رخشان ڈویژن کی زمینوں کی سٹلمنٹ، جو ان کے بقول قیام پاکستان کے بعد سے تاحال مکمل نہیں ہو سکی، فوری طور پر کی جائے۔ انہوں نے بلوچ نوجوانوں کو بلوچ رجمنٹ میں خصوصی رعایت کے ساتھ بھرتی کرنے، مقامی قیادت کو آگے لانے، بارڈر پالیسی پر نظرثانی، جبری گمشدگیوں اور غیرقانونی حراستوں کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا۔سردار احمد مجتبیٰ رند نے تجویز پیش کی کہ اگر انتظامی بنیادوں پر بلوچستان کو چار صوبوں، شمالی بلوچستان، وسطی بلوچستان، جنوبی بلوچستان اور مکران ساحلی بلوچستان میں تقسیم کیا جائے تو اس سے بہتر طرز حکمرانی، ترقیاتی منصوبوں پر مؤثر عملدرآمد اور پائیدار امن کے قیام میں مدد مل سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو ترقی، تعلیم، روزگار اور انصاف فراہم کرنا ہی صوبے میں دیرپا امن اور خوشحالی کی ضمانت ہے۔








